ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / غلام نبی آزاد کو گھرواپس لانے کی کوشش سونیا کی قریبی دوست امبیکا سونی کو ذمہ داری

غلام نبی آزاد کو گھرواپس لانے کی کوشش سونیا کی قریبی دوست امبیکا سونی کو ذمہ داری

Sat, 31 Dec 2022 10:33:16    S.O. News Service

نئی دہلی، 31؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد، جنہوں نے 4 ماہ قبل کانگریس کو خیرباد کہہ دیا تھا، کے دوبارہ پارٹی میں شامل ہونے کے چرچے شروع ہو گئے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اکتوبر میں اپنی نئی سیاسی تنظیم ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن راہل کی بھارت جوڑو یاترا کے کشمیر پہنچنے سے پہلے پارٹی نے اپنے پرانے اتحادی کو واپس لانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔پارٹی کی سینئر لیڈر امبیکا سونی خود آزاد کی واپسی کیلئے بات چیت کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امبیکا سونی نے آزاد سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے آزاد سے راہل گاندھی سے بات کرنے کو بھی کہا ہے۔ واضح رہے کہ امبیکا سونی کو سونیا گاندھی کی بہت قریبی لیڈر مانا جاتا ہے۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 20 جنوری کو جموں و کشمیر کے لکھن پور میں داخل ہوگی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر چاہتے ہیں کہ وہ اس سے پہلے آزاد کو قبول کر لیں اوروہ پارٹی میں واپس آجائیں۔آزاد نے اس سال 26 / اگست کو کانگریس پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ گزشتہ 52سالوں سے کانگریس سے وابستہ تھے۔ ان کی راجیہ سبھا کی میعاد اس سال ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد پارٹی نے انہیں دوبارہ راجیہ سبھا نہیں بھیجا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بھی ان کی ناراضگی کی ایک وجہ تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے جی 23تشکیل دیا، جس میں کانگریس کے منحرف رہنما تھے۔ یہ لوگ پارٹی میں مضبوط قیادت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ تمام تبدیلیوں کیلئے تجاویز بھی دے رہے تھے۔ آزاد نے اپنے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔سونیا گاندھی کو اپنے استعفیٰ نامے میں آزاد نے پارٹی قیادت بالخصوص راہل گاندھی کو نشانہ بنایاتھا۔ انہوں نے لکھا تھاکہ جس طرح پارٹی کو پچھلے 9 سالوں سے چلایا جا رہا ہے، اس کی وجہ سے پارٹی آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ آزاد نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک حلقہ پارٹی چلاتا ہے، جب کہ سونیا گاندھی صرف برائے نام سربراہ ہیں۔ تمام بڑے فیصلے راہل گاندھی یا ان کے سکیورٹی گارڈز اور پی اے کے ذریعہ لئے جاتے ہیں۔گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران غلام نبی آزاد نے دعویٰ کیا تھا کہ صرف کانگریس ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ آزاد نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کانگریس کی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن انہیں اس کے کمزور نظام سے مسئلہ ہے۔آزاد کے بیان کے بعد بھارت جوڑو یاترا کے کنوینر ڈگ وجے سنگھ نے آزاد کو یاترا کا حصہ بننے کی کھلے عام دعوت دی تھی۔ اس کے بعد G23کے سابق لیڈروں،اکھلیش پرساد سنگھ اور بھوپندر سنگھ نے آزاد سے رابطہ کیا اور ان کے علاوہ کانگریس میں ان کی واپسی کی وکالت کی۔


Share: